Wednesday, April 26, 2006

عجب انسان، غضب انسان


قدیم زمانے میں؛
٭ انسان نے جب بولنا سیکھا تو وہ بول کر اور سُن کر براہ ِ راست خیالات کا اظہار کرتا تھا۔
٭ پھر انسان نے لکھنا اور پڑھنا سیکھا، اب وہ بالراست خیالات کا اظہار کرسکتا تھا۔
٭ انسان شاید لکھنے سے اُکتا گیا اور اس نے کتابیں چھاپنا شروع کردیں۔

اب انسان نے حسب ِ عادت مخالف سمت کا رُخ کیا؛
٭ پہلے اس نے مطبوعہ (چَھپی ہوئی) کتابوں کی عکس کشی(اِسکَین) کرکے کاغذ سے پیچھا چُھڑایا۔
٭ پھر ایسے طریقے(OCR=Optical Character Recognition) بنائے کہ عکس سے واپس حروف و الفاظ کی شناخت کی جاسکے۔
٭ اگلا قدم جو اُٹھایا تو ایسے مَنفِیاتی (اِلیکٹَرانک) مَسُودوں کیلئے خودکار قاری(Speech Synthesizer) بنائے۔ اور ساتھ ھی خودکار اِملا نویس بھی۔

اب آپ اپنے خیالات بآواز ِ بلند کہیں اور خودبخود مسودہ تیار ھوجاتا ھے۔
اب وہ مسودہ کسی کو بھیجئے اور وہ کمپیوٹر سے کہے گا "اقراء..." اور آپ کے خیالات اُسے پڑھ کر سنائے جائیں گے۔ گویا آپ نے کہا اور اس نے سُن لیا۔

انسانی فطرت کا چکّر یوں پورا ھُوا۔

Friday, April 21, 2006

نسخوں کی حفاظت: ذاتی ڈِجیٹل کتب خانہ


اخبارات کے تراشے بہت تیزی سے انحطاط پذیر ھوتے ھیں اور اردو کی کتابوں کی طباعت کا معیار اور اُن کی دستیابی بھی اسی تیزی سے انحطاط پذیر ھے۔ ان تراشوں اور نسخوں کو محفوظ کرنے کی خاطر میں نے آفاقی کتب خانہ (Cyber/online Library) سے متعلق معلومات جمع کرنی شروع کردی تھی۔

قابل ِ ذکر اردو آفاقی کتب خانے درج ذیل ھیں؛
٭ کتاب گھر Kitaab Ghar
٭ اقبال اردو سائبر لائبریری(اردو کا پہلا آفاقی کتب خانہ) Iqbal Cyber Library
٭ عالمی کتب خانہ Universal Library

جن آفاقی کتب خانوں میں نسخوں کی عکس کشی(scanning) کرکے اصل شکل میں مہیّا کیا جاتا ھے، ان کے خاص فوائد یہ ھیں؛
٭ قاری کی نسخہ تک رسائی انتہائی آسان ھوجاتی ھے؛
٭ قاری کو اصل نسخہ پڑھنے کا گمان ھوتا ھے؛
٭ اصل نسخہ قاری کی لاپرواہی سے محفوظ رہتا ھے؛
٭ عظیم کاتبین کی با ہُنر، خوبصورت اور بے نُقص کتابت سے مطالعہ کا مزہ دوبالا ھوجاتا ھے۔

لہٰذا کسی کے پاس اگر نایاب/کم یاب نسخے ھوں اور وہ انہیں محفوظ کرنا چاہتا ھو تو درج ذیل نِکات ملحوظ رکھے؛
٭ عکس کا معیار کم از کم ٦٠٠ (چھ سو) نقاط فی مربع اِنچ(DPI-dots per inch) ھو؛ لیکن ١٢٠٠ (بارہ سو) نقاط فی مربع اِنچ بہتر ھے؛
٭ عکس لیتے وقت "محض سیاہ و سفید" (Monochrome) نہ لیں؛ بلکہ بُھورا عکس (Grayscale) لیں؛ اور اسے "بطور ِ اصل"(Original) محفوظ رکھ لیں؛
٭ اصل عکس (image) کو TIFF-Tagged Image File کی صورت (format) میں رکھنا بہتر ھے؛

کتاب کا عکس حاصل کرنے کے لئے مندرجہ ذیل سے کسی ایک طریقہ کا استعمال کرسکتے ھیں:
١- ڈِجیٹل عکّاس/کیمرہ Digital Still Camera
یہ بنیادی طور پر منظر/تصویر کشی کیلئے استعمال ھوتا ھے، لیکن فلَیش کے بغیر اِس کام میں بھی لایا جاسکتا ھے۔ نتائج کا دارومدار عکّاس سے ذیادہ نور کی مناسبت اور آپ کے ہنر پر ھوتا ھے۔
٢- مُسطح عکس کار(اِسکیَنَر) Flat-bed scanner
یہ بنیادی طور پر اوراق(علیٰحدہ) کی عکس کشی کیلئے مناسب ھوتا ھے۔ چونکہ دباؤ کی وجہ سے جِلد بَند کتابوں کی حالت خراب ھوسکتی ھے اسلئے اگر احتیاط کی جائے تو عکس خمیدہ/ٹیڑھا آتا ھے۔
٣- کُتُب اسکینر Book scanner
یہ مسطّح عکس کار سے بہت مشابہ ھوتا ھے، لیکن جلد بند کتب کیلئے بہت مناسب (غیر نقصان دہ) ھوتا ھے۔ لیکن، اوراق پلٹنے کیلئے کتاب اٹھانی پڑتی ھے، جو انحطاط پذیر نسخوں کی صحت کیلئے مضر ھوسکتا ھے۔
٤- سیارچہ/سیّارہ نما عکس کش Planetary scanner
یہ ایک با ادب کتب بین کی مانند، دور ھی سے کُھلی کتاب کا عکس(دونوں صفحے) لیتا ھے۔ کتاب کی جلد بندی کی وجہ سے عکس میں پیدا ھونے والے خَم دور کرنے کی اس میں خود کار صلاحیت ھوتی ھے۔ لیکن ہاتھ سے اوراق پلٹنا بوسیدہ نسخوں کی طبع ِ نازک پر گراں گذر سکتا ھے۔ علاوہ ازیں، اسے ہمہ وقت انسانی توجّہ درکار ھوتی ھے۔
٥- مکمّل خودکار آلہ(مِنجانب قِرطاس) Qirtaas-tech
ڈاکٹر لُطفی بالخَیر (Dr. Lotfi Belkhir- Ex-Xerox Corp.) کی کمپنی قرطاس-ٹیک کا یہ کامل خود کار آلہ بہت بوسیدہ نسخوں کی عکس کشی بھی آناً فاناً کردیتا ھے۔ یہ آلہ اوراق اُلٹنے کیلئے انسانی توجّہ کا محتاج نہیں ھوتا۔

مسطح عکس کار کی طرز پر سَستے قسم کے دو اور آلے بنائے گئے ھیں؛
١- دستی عکس کار Handheld scanner
یہ مطلق بھی خودکار نہیں ھوتا۔ سَستا (کم دام) ھوتا ھے اور عکس کا معیار صارف کے ہاتھ میں ھوتا ھے۔ چوڑائی پورے صفحہ کے عکس کیلئے مناسب نہیں ھوتی۔ البتّہ اخبارات کے کالم کیلئے کارآمد ھوسکتا ھے۔
٢- گَشتی عکس کار Mobile/Sheet-fed scanner
اس میں سے ورق خود گذرتا ھے اور عکس بنتا ھے۔ یہ جلد بند مسودوں/کتابوں کیلئے نامناسب لیکن اوراق اور تراشوں کیلئے کارآمد ھوتا ھے۔ لیپ ٹاپ صارفین کیلئے بہتر ھوتا ھے۔

(جاری ...)

Thursday, April 20, 2006

اردو نسخے اور معیاری طباعت کی قلّت


اخبارات، جرائد و رسائل:
مجھے وقتاً فوقتاً اخبارات و رسائل کے تراشے(paper cuttings) رکھنے کا شوق چرّاتا رہا ہے۔ اِس کاغذی کاروائی سے تنگ آکر میں نے تراشوں کا خیال ترک کردیا تھا، چوں کہ اخبارات کے تراشے بطور ِ خاص بہت تیزی سے انحطاط پذیر ہوتے ہیں۔

ادبی کتب:
گذشتہ ہفتہ جب چند ادبی کتابیں خریدنے کی غرض سے عروس البلاد بمبئی عظمٰی جانے کا اتّفاق ہوا تو خیال آیا کہ ابن ِ صفی کی مکمّل جاسوسی دنیا بھی خرید لی جائے۔ لیکن جو نسخہ دستیاب تھا وہ اصل کی "فوٹو کاپی" سے کچھ بہتر نہ تھا، اسلئے ارادہ ترک کرنا پڑا۔
سرسیّد کے مضامین، "آثار الصّنادید"، "تہذیب الاخلاق" اور مولانا ابوالکلام آزاد کی "غبار ِ خاطر" تک دستیاب نہ تھے۔ یہاں تک کہ جناب رشید حسن خاں کی حالیہ کتابیں "اردو کیسے لکھیں"، "اردو اِملا" تک نہیں ملیں۔ ملی تو صرف "انشاء اور تلفّظ"، قیمت ١٢ روپئے۔

رُجحان:
یہ افسوس کا مقام ہے کہ ہم کتابیں خرید کر نہیں بلکہ صرف مانگ کر پڑھنے میں یقین رکھتے آئے ہیں۔ اور ویسے بھی نئی پَود کو اُن سب دقیانوسی کتابوں سے کیا سروکار! نتیجتاً (نتیجۃً !!) اردو کتابیں ناپید ہوتی جارہی ہیں۔

وجوہات:
٭ نہ تو ان کتابوں کی کھپت اب اتنی ہے کہ پیسوں کی خاطر ہی سہی ان کے "جملہ حقوق دار" (ناشرین) کچھ تجدید عمل میں لائیں۔ اور نہ ہی اُن کی اگلی پیڑھیوں کو اس ذخیرہ کی پرواہ ہے۔
٭ حالیہ مصنّفین کو ان کتابوں کی شرحیں لکھنے میں کچھ ذیادہ ہی دلچسپی ہوگئی ہے، جن سے ان حضرات کو آسان آمدنی ہوجاتی ہے۔ لیکن، نہ حاشیوں کی تمیز نہ چھپائی میں نفاست۔
٭ لوگوں کو اصل کتابیں دقیق محسوس ہونے لگی ہیں، اسلئے یا تو پڑھتے ہی نہیں یا پھر شرحوں سے کام چلا لیتے ہیں۔ اصل پڑھنے کی حاجت ہوئی تو اُدھار زندہ باد۔
٭ مقدّموں پر مقدّمے سے پرانی کتابوں کی ضخامت میں جہاں روز افزوں ترقّی ہورہی ہے، وہیں انکی کتابت، املا، چھپائی، کاغذ اور کَھپَت میں حیرت انگیز زوال پذیری۔
لہٰذا میں نے غالؔب، اقبؔال، حالؔی و اکبؔر کے کلیات موقع ِ غنیمت جان کر لے لئے کہ اب ان کی چھپائی پر بھی زمانہ کی دھول چڑھنے ہی والی ہے۔

ردّ ِ عمل:
ان نسخوں کو دیمک و دھول کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی بجائے، میں نے اخبارات کے پسندیدہ مضامین کے تراشوں اور گراں قدر نسخوں کو ذاتی استعمال کیلئے اِسکَین(scan) کرکے ڈی-وھی-ڈی(DVD) پر محفوظ کرنے کا تہیّہ کرلیا ہے۔
اس ضمن میں ڈِجِیٹَل لائِبرَری کے تعلق سے مکمّل لائحۂ عمل مرتّب کرنا ابھی باقی ہے۔

Monday, April 17, 2006

مسموم فضا


سلمان خان کے بھتیجے کی رسم ِ نام رکھائی(baptizing ceremony) پر پادری نے سلمان کو بھگادیا تھا۔ یہ خبر بڑے محتاط انداز میں یوں دی گئی تھی؛
Arbaaz is reported to have decided to get his son Arhaan baptized on the request by wife Malaika, who is partly catholic.
But Father Peter Drego of the said church ruled out the possibility of Salman stepping into the shoes of a Godfather as the ritual and tradition required the man to be catholic.
Consequently, Arbaaz has asked his friend and designer Wendell Rodricks to be Godfather to Arhaan.
حیرت ھے کہ نیم عیسائی کی مسلم شوہر سے اولاد، یعنی چوتھائی عیسائی کی رسم گرجے میں ھو یہ قبول ھے، لیکن...

اب ہرن کُشی کے الزام میں سلمان کو قیدِ بامشقّت کی سزا ملی ھے۔
فیصلہ سے قبل ریڈیو پر جانوروں کے حقوق کے ایک علمبردار نے یہ کہا تھا کہ وہ سلمان کو اسلئے سزا دلانے کے لئے کوشاں ھیں کہ اس سے جانوروں کے معاملہ میں سنجیدگی بڑھے گی۔ لوگوں کی یہ رائے تھی کہ سلمان کو سزا ملنی ھی چاھئے، گویا "اگر مگر" کی کوئی ضرورت ھی نہ تھی۔ عدالت کیوں، جب جمہوری فیصلہ ھو چُکا تھا؟
سوچنے کی بات یہ ھے کہ نہ تو عیسائیوں نے بُش کے ساتھ ایسا سلوک کیا ھے نہ ھی عدلیہ نے فٹ پاتھیوں کو کچلنے والے امیروں کے لونڈوں، جیسیکا لال کے قاتل یا گجراتی مسلمانوں کے قاتل موذی کے ساتھ۔
کہیں ھمیں انسان ھونے پر افسوس نہ ھونے لگے! کاش گجراتی مسلمان ہرن ھوتے!

عامر خان کی حالیہ فلم رنگ دے بسنتی میں مسلم کردار کے بھائی اور والدین کو ایسے انداز میں پیش کیا گیا کہ صحیح الذہن ھم وطن بھی اُس بات پر مسلمانوں سے نفرت کیے بغیر نہ رہ سکیں گے۔ وہ اُسے بگڑے شرابیوں، لفنڈروں کو چھوڑ کر اپنے ھم مذہب لڑکوں کے ساتھ رہنے کی تلقین کرتے ھیں، جو نہایت سنسنی خیز انداز میں دکھائی گئی ھے۔
دوران ِ فلم باقی سب لوگوں کی "رواداری" کا حساب تو برابر کردیا جاتا ھے، لیکن مسلمان تو خبیث ہی ٹھہرے، کیا ضرورت! لیکن یہ خیال ضرور رکھّا گیا کہ گوروں پر آنچ نہ آنے پائے۔
اب جب کہ عامر نے نربدا بچاؤ تحریک کی حمایت کی تو موذی و اسکے حواری اسی شخص پر اُلٹ گئے، آنچ رنگ دے بسنتی پر آیا چاہتی ھے۔ گجرات کے کئی سنیما گھروں میں اُسکی نمائش بند کردی گئی ھے، گویا ساری محنت پر پانی پھر گیا!

Wednesday, April 05, 2006

اردودان / اردوداں

ایک دوست نے پوچھا "تمہارا بلاگ دوسروں کی فہرست میں عموماً اردودان کے نام سے ھوتا ھے اور لوگ بھی تمہیں اردوداں کی بجائے اردودان کہہ کر ھی مخاطب کرتے ھیں، اسکی وجہ کیا ھوسکتی ھے؟"
میں نے کہا "بھائی، اردوداں تو سائنس داں جیسا لگتا ھے، جو میرے پیغام کی رُو سے برخلاف ِ دعویٰ بھی ھے۔ اسی لئے لوگ مجھے اردودان کہتے ھیں؛ جو نمک دان، پان دان اور اُگال دان وغیرہ سے مطابقت رکھتا ھے۔"
تو اُنہوں نے اثبات میں سر ھلاتے ھوئے کہا "سچ ھے جس طرح کوڑا دان میں کوڑا رکھتے ھیں، اسی طرح اردو دان میں اردو!"
میں نے تائید کی اور مزید کہا "اردودانی نام کا بھی ایک بلاگ ھے جس سے مجھے مچّھر دانی کی بے اختیار یاد آنے لگتی ھے۔"

Monday, April 03, 2006

اردو والا

کچھ مہینوں قبل کسی رشتہ دار کے ذریعے بمبئی کی برفیاں کھانے ملیں۔ یہ برفیاں بمبئی کے "محمّد علی روڈ" پر واقع "سلیمان مٹھائی والے" کی تھیں جن کی لذّت میں اردو کی شیرینی نے اضافہ کردیا تھا۔ برفیاں لذیذ تو تھیں ھی، ان کا ڈبّہ بھی عزیز ھوگیا۔ کیونکہ اس پر ایک جانب انگریزی اور دوسری جانب اردو میں لکھا تھا۔

اس تاریک(اردو تارک) دَور میں جہاں اردو مدارس(اسکولیں) بھی ان کے نام اردو میں لکھنے سے کتراتے ھیں، اِن حضرات نے اپنے کاروبار کو اردو کی خاطر داؤ(محض خام خیالی) پر لگادیا۔

سُلیمان مٹھائی والے
شاھوں کے شایان ِ شان مٹھائیاں بنانے والے

یہاں تک کہ پتہ بھی اردو میں تھا؛
٤١ ایف/جی، محمّد علی روڈ، بمبئی ٤٠٠٠٠٣

ویب سائٹ: www.sulemanmithaiwala.com
ای-میل: info@sulemanmithaiwala.com

معذرت: میرا اُن سے صرف اردو کا تعلّق ھے۔ نہ تو مجھے مفت مٹھائیاں ملتی ھیں اور نہ ھی تشہیر کا معاوضہ!

افسوس صرف اس بات کا ھے کہ اردو والے لفظ حلوائی سے پرہیز تو کرتے ھیں، لیکن حلوہ کا دامن نہیں چھوڑتے، اسی لئے وہ اردو کی حلاوت سے محروم ھورہے ھیں۔

Saturday, April 01, 2006

جا بیجا خیالات


Just being able to read does not help.
Being able to understand surely does.
After all, there is a big difference between a literate & an educated.

لطیفہ سَنت اور بَنت کا

سَنت اور بَنت سِنگھ لنگوٹیے یار ھی نہیں بلکہ شروع ھی سے ھم جماعت بھی رہے ھوتے ھیں۔ بالآخر وہ درجہ دوازدہم (بارھویں) میں کامیابی کے بعد انجینئرنگ میں ایک ھی کالج میں داخلہ بھی پا لیتے ھیں۔ دونوں اِلیکٹِریکل انجینِئر بننے کیلئے ایک ھی جماعت میں زیر ِ تعلیم ھوتے ھیں، اور انکی دوستی کی کامیابی پر بہت خوش بھی۔

اب جناب ِ سَنت تو سال بہ سال کامیاب ھوتے رہتے ھیں لیکن جناب ِ بَنت وہیں سال ِ اول کے گَردُوں میں گرفتار رہتے ھیں۔ بالآخر جب یہ عیاں ھونے لگتا ھے کہ سنت فارغ التحصیل ھوجائیں گے لیکن بنت وہیں کے وہیں تو ان کی دوستی جوش میں آجاتی ھے۔ لہٰذا مشورہ سے دونوں یہ فیصلہ کرتے ھیں کہ سنت کے سال ِ اخیر کے دوران بنت نے سال ِ اوّل تو ختم کر ہی لینا چاھئے۔

امتحانات وارد ھوتے ھی دونوں مل کر سر جوڑ کر سوچنے لگتے ھیں کہ مسئلہ کیا ھے، بنت اتنے کند ذہن تو کبھی واقع نہیں ھوئے ھیں! سنت کے اصرار پر بنت یہ راز افشاں کرتے ھیں کہ دراصل ان کی ناکامی کے پیچھے اِس مساوات کا ہاتھ ھے Power = I square R جسے بنت ھمیشہ Power = R square I لکھ دیتے ھیں اور بقیہ پرچہ اِس بنیادی غلطی کی وجہ سے برباد ھوجاتا ھے۔

سنت کہتے ھیں "میں کل تک کوئی حل ڈھونڈ نکالوں گا جس سے تمہاری صحیح مساوات یاد رکھنے میں مدد ھوسکے" دو دن بعد ملاقات پر سنت حل یوں بتاتے ھیں "جوابی پرچہ ہاتھ آتے ھی یہ نظم پڑھنا اور صحیح مساوات کہیں لکھ لینا، پھر فکر کرنے کی ضرورت نہیں"

twinkle twinkle little star
how I wonder what you are
Power equals I square R

بنت یہ بات گِرہ باندھ لیتے ھیں اور پھر نتیجہ کے بعد دونوں ملتے ھیں۔ بنت شرمندگی سے ظاہر کرتے ھیں کہ وہ امسال بھی ناکام رہے ھیں۔ سنت غصہ سے پوچھتے ھیں کہ اس نظم اور مساوات کا کیا ھوا، تو بنت جھجکتے ھوئے راز کھلتے ھیں کہ انہوں نے یوں لکھ دیا تھا؛

twinkle twinkle little star
how I wonder what you are
up above the world so high
Power equals R square I