Saturday, January 13, 2007

لذیذ پر بلاگرانِ عزیز

یہ لذیذ موقع ہمارے ہاتھ لگا اور ہم نے آزمالیا۔ بہت مزا آیا۔ ہماری سُستی تھی کہ ہمیں دیگر بلاگران کے پتے اپنے یہاں لکھنے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔
لذیذ پر ہم نے بنایا http://del.icio.us/urdudaan اور رکھ دی اپنے دیکھے بھالے اردو بلاگوں کی یہ فہرست جو اب فرصت کی محتاج نہیں رہی۔ اب یہی ہمارے پسندیدہ روابط کی جیتی جاگتی فہرست ہے۔

Saturday, January 06, 2007

اردو قاعدہ -- مدد درکنار


اردو کی گراں قدر ہستی مرحوم رشید حسن خان صاحب لفظ "ہی" کے متعلّق ایک ضروری قاعدہ یوں بیان کرتے ہیں؛
=٭ ہی کا تعلّق جس لفظ سے ہوگا، یہ اُسی کے ساتھ آئے گا۔ اِن دونوں کے درمیان کوئی اور لفظ نہیں آئے گا ٭=
اور جب یہ ہوتا ہے تو اکثر لفظ "ہی" متعلّق لفظ کے ساتھ مرکّب بنالیتا ہے، جیسے؛

اُس + ہی = اُسی  اِس + ہی = اِسی
اُن + ہی = اُنھی  اِن + ہی = اِنھی
وہ + ہی = وُہی  یہ + ہی = یہی
سب + ہی = سبھی  جب + ہی = جبھی
تب + ہی = تبھی  اب + ہی = ابھی
کب + ہی = کبھی  ہم + ہی = ؟

یہ سارے مرکّب حسب ِ توقّع استعمال ہوتے ہیں۔

لیکن اشعار میں اکثر ایک لفظ ہمیں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً فیض اور داغ کے درج ذیل اشعار؛

ہمیں سے سُنّت ِ منصور وقیس زندہ ہے
ہمیں سے باقی ہے گُل دامنی وکَج کُلہی

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

کیا یہ لفظ ہمیں، ہم اور ہی الفاظ کا مرکّب ہے؟
اگر ہاں تو یہ مرکّب ہمی، ہمھی یا ہمہی کیوں نہیں لکھّا جاتا، اضافی نُون غُنّہ کہاں سے آتا ہے؟

Wednesday, January 03, 2007

الفاظ ہورہے گُم، دنیا رہی ہے گُھوم

آج اکثر لوگوں کو میں یہ کہتے سنتا ہوں کہ وہ چیز گُھوم گئی ہے
پہلی بار جب یہ سنا تو تعجّب ہوا کہ کیا واقعی کسی چیز کے گھومنے کی بات مقصود تھی۔ لیکن یہ بات عیاں ہوتے دیر نہ لگی کہ لوگوں نے گُم ہوجانے اور گُھومنے میں کامیاب مغالطہ پیدا کرلیا ہے۔

یہ مغالطہ اِس غلط فہمی پر مبنی ہے کہ لوگ جب کسی ہجوم میں گھومنے کیلئے شرکت کرتے ہیں تو نتیجہ اکثر کسی کے گُم ہوجانے کی صورت میں نکلتا ہے۔دوسرے یہ کہ کسی چیز کے گم ہوجانے اور کسی کے گھومنے جانے میں تمیز کرنا فضول محنت کا کام ہے، خاص طور پر جب آمدنی یا شرمندگی جیسے نتائج متوقّع نہ ہوں۔

براری بولی میں گم ہوجانے کو گُم جانا اور گنوا دینے کو گُما دینا کہا جاتا ہے۔ لیکن اس سے مغالطہ پیدا نہیں ہوتا۔

آج جب کسی نے کہا کہ مجھے چائے کی طلب ہورہی ہے تو دوسرا شخص یہ بات سمجھ نہ سکا۔ آخر اسے یہ بتایا گیا کہ طلب یعنی craving