Saturday, December 31, 2005

نئے سال کے نئے خیالات



٭ سال ِ نو
کیا یہ ایک تماشہ نہیں ھے؟
کوئی مہینہ ٣١ دن کا تو کوئی ٣٠ دن کا!
ایک خاص مہینہ کبھی ٢٨ تو کبھی ٢٩ روز کا!

جسطرح ایک ھفتہ میں ھمیشہ ٧ روز ھوتے ھیں، ھر دن میں ٢٤ گھنٹے، گھنٹہ میں ٦٠ منٹ اور منٹ میں ٦٠ سیکنڈ،
اُسی طرح اگر ھر مہینہ میں ٤ ھفتے ھوتے یعنی ٢٨ روز تو سال میں ٣٣٦ روز یعنی ٤٨ ھفتے ھوتے۔ یا اگر ھر مہینہ ٣٠ روز کا ھوتا تو سال میں ٣٦٠ روز ھوتے۔
یعنی اگر مغرب کو اپنے بادشاھوں سے اتنی عقیدت نہ ھوتی اور نہ ھی ھم انہیں اتنا اعلی مقام سمجھتے تو زندگی کتنی سہل ھوتی!

٭ جمہوریت
علّامہ اقبال نے اپنی دور رس فکر سے کہا تھا کہ

جمہوریت وہ طرز ِ حکومت ھیکہ جسمیں
بندوں کو گِنا کرتے ھیں، تولا نہیں کرتے


آج کے انگریزی اخبار "ایشِیَن ایج" میں کہا گیا ھے کہ

Democracy is mob rule, but with taxes.


دونوں خیالات مُختلف نظریات پر مبنی ھیں، ایک شماریات(statistics) پر تو دوسرا معاشیات(economics) پر۔ لیکن دونوں جمہوریت کی بنیادی خامیوں کو اجاگر کرتے ھیں۔ سچ تو یہ ھیکہ جمہوریت ھو نہ ھو عوام اچھے تو حکمران اچھے۔

2 Comments:

At 6:26 AM , Blogger شعیب صفدر said...

خوب

 
At 1:37 AM , Blogger urdudaaN said...

شکریہ شعیب صفدر صاحب

 

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home