Wednesday, February 11, 2009

تعلیمی تاش

اکثر میری بات ایک پاکستانی انجینئر سے ہوتی رہتی ہے۔ یہ جناب پاکستان سے کینڈا بڑے خواب لے کرآئے تو تھے، لیکن یہاں آکر فی الحال چوکیداری کررہے ہیں۔ خیر یہ حالات کا تقاضہ ہے۔
میں ان سے بات کررہا تھا اور اسی دوران میں نے ذکر کیا کہ آجکل ذاتی طور پر میں "انٹرنیٹ تعلیمی تاش" بنانے میں مصروف ہوں۔ بات آگے بڑھی تو میں نے ان سے پوچھا کہ آیا وہ تعلیمی تاش تلاش کرنے میں میری مدد کرسکتے ہیں۔ انہوں نے عقدہ کھولا کہ وہ تعلیمی تاش کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، نہ ہی انہوں نے کبھی کھیلا ہے۔
جب میں نے پوچھا کہ کیا وہ "اِسکرَےبَل" کے بارے میں جانتے ہیں تو انہیں نے ہاں میں جواب دیا۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ سچ مچ اِس کھیل سے واقف ہیں یا نہیں۔
آنہوں نے مجھے مشورہ دیا "آپ تعلیمی تاش کے بجائے اسکرےبل کیوں نہیں کھیل لیتے"
میں نے جواب دیا "میں کھیلنا نہیں چاہتا بلکہ آپ کو کھیلتے دیکھنا چاہتا ہوں"

Sunday, September 07, 2008

ایک خیال ذرائع ابلاغ پر



غالباً یہی دو قسمیں پائی جاتی ہیں؛ اوّل زمرے میں زیادہ تر اردو اور دوسرے میں کئی انگریزی اخبارات اور جرائد آتے ہیں۔
مثلاً گجرات مُسلم کُش فسادات کے بعد سے آج تک اردو اخبارات و رسائل اس کا سوگ مناتے ہوئے ہائے ہائے کرتے آئے ہیں۔
اور انگریزی رسائل "فَورگیٹ اَینڈ فَورگِیو" کے تخت وہ حدیث دہراتے آرہے ہیں جس میں ایک عورت پیغمبرِ اسلام پر کچرا ڈالا کرتی تھی۔ اللّہ اللّہ

انصاف اگر چھینا نہیں تو کم از کم مانگا تو جاسکتا ہے!

Thursday, September 04, 2008

کھجور کی تلاش

رمضان کا پہلا روزہ تھا۔ سب کچھ تھا، لیکن کھجور نہیں۔
میں مسلم اکثریتی علاقہ میں نہیں رہتا، جہاں تمام قسم کے حلال گوشت اور کھجور جیسی چیزوں کی فراوانی ہوتی ہے۔ ان "پسماندہ" علاقوں میں قلّت صرف راستوں کی ہوتی ہے۔ نجانے کیوں مسلمان علاقوں میں یہ رجحان ہر جگہ پایا جاتا ہے کہ ہم اپنی متعیّن جگہ سے پانچ فٹ آگے مکان بڑھالیتے ہیں۔
خیر، میں جس علاقہ میں رہتا ہوں وہاں کی صغیرہ و کبیرہ دکانوں کے میں نے چکّر لگائے لیکن کہیں کھجور نہ ملی۔ یہاں جو موَل اور بیکریاں ہیں (خواہ وہ مسلمانوں کی ہوں) تہواروں کا بطورِ خاص خیال رکھتے ہیں؛ دیوالی ہو یا کرسمس۔
لیکن کھجور اور دودھ جن کا استعمال رمضان میں بڑھ جاتا ہے، ان دونوں چیزوں کی قلّت سی ہوگئی ہے۔ وجہ یہ تھی کہ دوکانداروں کو رمضان شروع ہونے کا نہ تو علم ہے نہ ہی کاروباری اہمّیت۔ علم کیوں کر ہو؛ نہ تو رمضان کے ڈھول تاشے ہوتے ہیں اور نہ ہی کوئی دھوم۔
وہ دن ہوا ہوئے جب سحری ختم ہونے کا اعلان کیا جاتا تھا۔ اب تو صبح میں شور کرنے پر پابندی کی وجہ سے اذان کب ہوتی ہے معلوم نہیں ہوتا۔ پھر جب لوگ اپنے گھروں سے مسجدوں کیلئے نکلتے ہیں تو راستے میں ملاقات صرف کتّوں سے ہوتی ہے۔ جب سے کتّوں کے مارنے پر پابندی عائد ہوئی ہے، وہ بڑے غیر ذمّہ دار ہوگئے ہیں۔ کیا ان سے کوئی توقّع کی جاسکتی ہے کہ وہ دوکانداروں کو صبح کے حال سے مطلّع کریں گے! خیر چھوڑیے ان کتّوں کو۔
لیکن جب میں اس علاقہ کی مسجد میں جاتا ہوں تو کافی لوگ ہوتے ہیں، جس سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ اس علاقہ میں کتنے "چھپے رستم" (مسلمان) رہتے ہیں۔ اس علاقہ میں کاروبار کرنے والوں کی منافع سے اس بے رُخی پر مجھے غصّہ بھی آیا اور افسوس بھی ہوا۔
خدا خدا کرکے(اِسے شرک نہ سمجھیں، خدا سے میری مراد اللّہ ہے)، ایک راجستھانی حلوائی کے یہاں کھجور ملی؛ آدھا کلو کی جدید ہوا بَند پُڑیا، جو وہ ستّر روپئے "ایم-آر-پی" میں بیچنے پر بضد تھا۔ میں گھر آنے تک یہی سوچتا رہا کہ آئندہ سال کسی ایماندار ضرورت مند کی مالی اعانت کرکے اسے ایک "رمضان المبارک" دوکان لگانے پر راضی کرونگا۔ خیر، دوسرے روز میں نے اس کھجوری "استحصال" سے بچنے اور "باایمان" ہوا میں سانس لینے کیلئے مسلم بازار کا رُخ کیا اور ٣٠٠ گرام کھجور کیلئے ساٹھ روپئے ادا کرنے کے بعد استحصال کی ایمانی حالت کا مجھے علم ہوا۔

Wednesday, August 20, 2008

لطیفہ - مغربی ذرائع ابلاغ

یہ تلخ لطیفہ مجھے بذریعہ ای-میل موصول ہوا۔ اس لئے میں ترجمہ کرنے کی زحمت نہ اٹھاتے ہوئے اسے یہاں انگریزی میں جوں کا توں پیش کررہا ہوں۔ کاش حقیقت اتنی تلخ نہ ہوتی کہ مجھے اس لطیفہ کو حذف کرنے میں کوئی پریشانی نہ ہوتی۔
احمد آباد بم دھماکوں کا ملزم، جس کے انٹرنیٹ کا استعمال کیا گیا تھا، ایک امریکی تھا اور اسے با عزّت اپنے وطن جانے دیا گیا۔ جبکہ کئی مسلمان نوجوان اسی ای میل کے طفیل سلاخوں کی زد میں ہیں۔


Western Media
A man is taking a walk in Central park in New York. Suddenly he sees a little girl being attacked by a pit bull dog. He runs over to fend off the dog. In the process he kills the dog to save the girl's life.
A reporter who by chance was walking by, comes to the scene and says: "You are a hero, tomorrow you can read it in all the newspapers: 'Brave New Yorker saves the life of little girl' ". The man says: - "But I am not a New Yorker!" "Oh ,then it will say: 'Brave American saves life of little girl' " – the reporter answers. "But I am not an American!" – says the man. "Oh, what are you then?" The man says, "I am a Saudi!".
The next day the newspapers headline reads: Islamic extremist kills dog in Central Park

Labels:

Thursday, August 07, 2008

مُحمّد علی روڈ

شہرِ بمبئی کا "مُحمّد علی روڈ"، مولانا محمّد علی جَوہر سے منسوب ہے۔ پچھلے چند مہینوں میں مجھے وہاں جانے کا اتّفاق ہوتا رہا ہے۔ دراصل کام تو مجھے "چرچ گیٹ" کے قریب کرنا ہوتا تھا، لیکن میں صبح جلدی نکل جاتا تھا اور دیر رات واپسی کا ٹکٹ بنا لیتا۔ اِس طرح مجھے ١ یا ٢ گھنٹے کے کام کے علاوہ کافی وقت خالی مِل جاتا جس میں میں اِس "کتابستان" کی مزاج پُرسی کرتا تھا۔ مزاج پرسی کیا اسے عیادت کہوں تو غیر مناسب نہ ہوگا۔
یہاں اردو کی نئی اور پرانی سبھی کتابیں ملتی ہیں؛ مذہبی اور غیر مذہبی دونوں قسم کی۔ میں نے بھی چند کتابیں خریدیں۔

میں اس سڑک پر تھا جو وکٹوریا ٹرمِنَس (وی۔ٹی) سے بھینڈی بازار کی جانب جاتی ہے۔ میں بھیڑ چیرتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا لیکن میری نظر یہاں کے مسلمانوں کی علمی فہم کو پرکھنا چاہتی تھی۔
"حج ہاؤس" کے سامنے سے گذرتے ہوئے یہ خیال آیا کہ اِسے "حج مندر" کہتے تو غیر برادران کی کتنی خوشنودی پاتے! حج ہاؤس سے بے ساختہ "کَوفی ہاؤس" یاد آیا۔
آگے ایک مسجد تھی اس کے دروازے کے قریب ایک جگہ سے فون کیا۔ مسلمان دوکان دار کے ساتھ حسبِ دستور کچھ غیر ضروری احباب بیٹھے تھے اور پر زور انداز میں یہ بات زیرِ بحث تھی کہ فلاں نمبر کس علاقہ کا تھا۔ بحث اتنی پُر جوش کہ فون پر بات کرنا مشکل ہورہا تھا۔
آگے ایک درگاہ پر "پیڈرو" نام لکھا تھا۔ انگریزی میں "pedro" اور ناگری میں "पेडरू" نجانے میں یہ کیوں سوچنے لگا کہ یہ "پَید رَو" ہونا چاہئے تھا۔
مزید آگے ایک چوک تھا جہاں لکھا تھا کہ یہ کسی کیلئے "sawab-e-zariya" کی نیت سے بنی ہے۔ کسی قابل ہندوستانی انگریز مسلمان نے j کی جگہ z لکھا تھا۔ کیا وہ جاریہ اور ذریعہ کا فرق سمجھتا ہوگا!
اطراف میں مالیگاؤں کے نئے کامیاب افسر کو خراجِ تحسین پیش کرتے کئی بورڈ تھے جو کہتے "ہم انہے اس کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہے" (حرام خور سارے نون غنّہ ہضم کرگیا)۔

اس سڑک کے نام میں اوّل تو "مولانا" غائب ہے دوّم مُحَمّد کو ناگری میں "महंमद" لکھا ہے یعنی مَحَنمَد۔

میں نے جو کتابیں خریدیں؛
١۔ رشید حسَن خاں کی "تفہیم"
==> مکتبہ جامعہ، نئی دہلی نے خاں صاحب کے شایانِ شان اس کی بہتریں طباعت اور جلد بندی کی ہے۔ خان صاحب کے مضامین تو غیر معیاری ہو ہی نہیں سکتے۔ کتاب کی شروعات انہوں نے مولانا آزاد کی تقریر نما تحریروں کے بدلتے رنگوں کے علمی جائزہ سے اور اختتام "ترقّیِ اردو بورڈ کراچی" کے انتہائی غیر معیاری لُغت کی دھجّیاں اڑانے پر کیا ہے۔
٢۔ مکتبہ جامعہ کے معیاری ادب سلسلہ کی "انتخابِ مضامینِ سَر سیّد"
٣۔ عنایت اللّہ التمش کی "داستان ایمان فروشوں کی"
==> یہ فرید بُک ڈِپو کی مجرمانہ کاوش کا نتیجہ ہے۔ سرورق اور متن کی طباعت میں وہی مناسبت ہے جو ایک حَسین فحاشہ کی صورت اور کردار میں ہوتی ہے۔
٤۔ "پَطرس (بُخاری) کے مضامین"
٥۔ ابنِ صفی کا "خطرناک مجرم"

Saturday, March 29, 2008

بریانی، حلیم اور پائے : مختصر تاریخ

مندرجہ ذیل اقتباس حیدر آباد کے ایک ہوٹل کے پرچہ سے ماخوذ ہے۔
[Following text is reproduced here verbatim from a sheet of paper. It is presented here with some additions inline and enclosed in brackets.]

In the olden days when the armies marched long stretches, they were to be fed in the most befittingly nutritious manner. Hence they carried with them herds of sheep, goats, rations of rice and wheat. The meat was then cooked with rice or wheat, what was cooked with rice came to be known as BIRYANI (بریانی = biryaani) and with wheat as HALEEM (حلیم = Haleem). The remnants of the lamb such as trotters, organs etc was cooked overnight and served the next morning came to be known as NAHARI/PAYA (نہاری/ پائے = nahaari/paa'ey).

The Nizam (نظام = nizaam) and other members of the royal family, such as Salar Jung (سالار جنگ = saalaar jang), Viqar-ul-Umrah (وقارالامراء = wiqaarul umraa) with unwavered dedication from the Royal cooks of the erstwhile Nizam perfected this most ordinary cooking by using expensive, special and aromatic ingredients to produce food of the highest quality of taste and nutrition, creating a perfect balance of proteins, carbohydrates etc.
The extent of care taken is evident from the fact that even the metal that is used in the cooking vessels, was predominantly copper, which helps in slow cooking, while retaining the original flavors of meats etc.

Hyderabad House (حیدرآباد ہاؤس = Haidar-aabaad house), established in 1975 by its founder Late Mir Baber Ali (میر بابر علی - مرحوم = meer baabar Ali - marhoom), continues this legacy with equal finesse, which has made it a household name among one and all in Hyderabad. It intends to promote this unique cuisine not only in the city but also to all parts of the country and abroad.

Monday, March 17, 2008

سنجے گوڈبولے

سَن جَے گوڈ بولے پونہ کی ایک مشہور ہستی ہیں۔ برہمن فرقہ سے تعلّق رکھتے ہیں۔ اردو، فارسی، عربی اور آثارِ قدیمہ سے خاصی رغبت رکھتے ہیں۔ کسی برہمن کا تعلیم و معلومات سے شغف ایک عام فہم حقیقت ہے۔ انگریزی و مراٹھی اخبارات و رسائل میں انکے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔

آفاقی اردو کتب خانے کتاب گھر، اردو دوست اور اردوستان سے ان کے چند مضامیں و کتابیں مفت حاصل کی جاسکتی ہیں۔

سنجے صاحب کا آثارِ قدیمہ سے بہت گہرا تعلق ہے۔ شہرِ پونہ میں آثارِ قدیمہ کے شائقین میں وہ ایک ممتاز ہستی ہیں۔ مشہورِ زمانہ کتاب لِمکا میں ان کا نام قدیم تصاویرو دستاویزات جمع کرنے کی ضمن میں درج ہے۔ اسکے علاوہ قدیم فنون کا ایک ذخیرہ بھی آپ کے پاس موجود ہے۔ قدیم سکّے جمع کرنے سے متعلق ایک کتاب بھی لکھ چکے ہیں

آپ ایک تاریخ داں بھی ہیں اور شہرِ پونہ اور بلوچی فرقہ پر آپ تفصیل وار تبصرہ بھی کرچکے ہیں۔ سنجے صاحب کے مضامیں روزنامہ اِنڈیَن ایکس پریس میں اور پونہ کی طرزِ زندگی نامی موقع پر دستیاب ہیں۔

آپ کی قابلِ ذکر تصنیفات جانشینِ داغ: بھائی جان عاشق اور غالبیات پر تین یادگار تقریریں کتاب گھر پر نستعلیق pdf کی شکل میں مفت نزول کیلئے فراہم کی گئی ہیں۔ اسکے علاوہ اردوستان پر اردو کا مستقبل کے زیرِ عنوان ان کا مضمون قابلِ توجّہ ہے۔

Labels:

Saturday, February 09, 2008

محاورے فلموں میں

جب بھی کوئی انگریزی کتاب پڑھنے کا اتفاق ہوتا ہے تو میری محدود معلومات میں چند نئے الفاظ کا اضافہ ہوجاتا ہے۔ نئی اردو کتابوں اور رسالوں کا معاملہ اسکے بالکل برعکس ہے یعنی کافی مروج الفاظ بلا وجہ متروک پاتا ہوں اور نا معقول انگریزی الفاظ کو بلا وجہ مستعمل پاتا ہوں۔ حالانکہ اردو فلمی گانوں کا بھی کچھ ایسا ہی حال ہوچلا ہے، پھر بھی میں ان سے ناامید نہیں ہوں؛ لیکن وہاں بھی اردو والے نا ہنجار اور اردو بیزار ہندی والوں کا بول بال ہے جو میری امیدوں کی صحت کیلئے مضر ہے۔

فلم 'بھول بھلیاں' میں ہیرو امریکہ سے شادی کرکے آجاتا ہے جس پر لوگ ششدر رہ جاتے ہیں۔ ہیرو کا چچا اس پر کہتا ہے؛
"ارے! یہ آپ لوگ موم جیسے پگھل کیوں گئے"
فلم 'تارے زمیں پر' میں ایک گانا ہے جس میں ڈٹے رہنے کو یوں تعبیر کیا گیا ہے؛
"ٹس سے مس نہ ہونگے ہم"

نجانے کیوں مجھے یہ دونوں استعمال غلط لگتے ہیں۔
"موم جیسے پگھل جانا" مثبت اور "ٹس سے مس نہ ہونا" منفی معنوں میں استعمال ہوتے ہیں لیکن یہاں وہ بالترتیب منفی اور مثبت معنوں میں استعمال کئے گئے ہیں۔

Friday, February 01, 2008

جُمعہ کا بَیان اور دُعا

آج کا بیان ایک سُنّی قسم کا شخص دے رہا تھا؛

میں اس بیان کے آخری چند جملےہی سُن سکا، جس میں قابلِ ذکر یہ فقرہ تھا؛
"اور وہی لاغر اونٹنی چلنے لگا"

نماز کے بعد دعا کچھ اس پیرائے میں "عطا فرمائی" گئی؛
٭) اللّہ ہماری کوتاہیوں کو دور عطا فرمائے۔
٭) اللّہ تمام مسلمانوں کو کامیابی نصیب عطا فرمائے۔
٭) اللّہ تمام مسلمانانِ عالم کی حفاظت عطا فرمائے۔


خدا اُن صاحب کی دعاؤں کو قبولیت سے ذیادہ تصحیح "نصیب عطا فرمائے"۔
:(

Thursday, January 17, 2008

بنگلوری انگریزی و حیدرآبادی اردو

بنگلور کے اردو اخبارات انگریزی الفاظ کو کچھ اسطرح لکھتے ہیں؛
bat کو بَیٹ کی بجائے بیَاٹ

حیدر آباد کے عوام اردو الفاظ کو انگریزی میں کچھ اسطرح لکھنا پسند فرماتے ہیں؛
خوبانی کو Qubani اور ایک جگہ تو صاف طور پر Qurbani لکھا گیا تھا

مجھے اِس بلاگ پر اپنا ارسال کردہ ایک لطیفہ یاد آرہا ہے۔

Labels:

Saturday, January 13, 2007

لذیذ پر بلاگرانِ عزیز

یہ لذیذ موقع ہمارے ہاتھ لگا اور ہم نے آزمالیا۔ بہت مزا آیا۔ ہماری سُستی تھی کہ ہمیں دیگر بلاگران کے پتے اپنے یہاں لکھنے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔
لذیذ پر ہم نے بنایا http://del.icio.us/urdudaan اور رکھ دی اپنے دیکھے بھالے اردو بلاگوں کی یہ فہرست جو اب فرصت کی محتاج نہیں رہی۔ اب یہی ہمارے پسندیدہ روابط کی جیتی جاگتی فہرست ہے۔

Saturday, January 06, 2007

اردو قاعدہ -- مدد درکنار


اردو کی گراں قدر ہستی مرحوم رشید حسن خان صاحب لفظ "ہی" کے متعلّق ایک ضروری قاعدہ یوں بیان کرتے ہیں؛
=٭ ہی کا تعلّق جس لفظ سے ہوگا، یہ اُسی کے ساتھ آئے گا۔ اِن دونوں کے درمیان کوئی اور لفظ نہیں آئے گا ٭=
اور جب یہ ہوتا ہے تو اکثر لفظ "ہی" متعلّق لفظ کے ساتھ مرکّب بنالیتا ہے، جیسے؛

اُس + ہی = اُسی  اِس + ہی = اِسی
اُن + ہی = اُنھی  اِن + ہی = اِنھی
وہ + ہی = وُہی  یہ + ہی = یہی
سب + ہی = سبھی  جب + ہی = جبھی
تب + ہی = تبھی  اب + ہی = ابھی
کب + ہی = کبھی  ہم + ہی = ؟

یہ سارے مرکّب حسب ِ توقّع استعمال ہوتے ہیں۔

لیکن اشعار میں اکثر ایک لفظ ہمیں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً فیض اور داغ کے درج ذیل اشعار؛

ہمیں سے سُنّت ِ منصور وقیس زندہ ہے
ہمیں سے باقی ہے گُل دامنی وکَج کُلہی

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

کیا یہ لفظ ہمیں، ہم اور ہی الفاظ کا مرکّب ہے؟
اگر ہاں تو یہ مرکّب ہمی، ہمھی یا ہمہی کیوں نہیں لکھّا جاتا، اضافی نُون غُنّہ کہاں سے آتا ہے؟

Wednesday, January 03, 2007

الفاظ ہورہے گُم، دنیا رہی ہے گُھوم

آج اکثر لوگوں کو میں یہ کہتے سنتا ہوں کہ وہ چیز گُھوم گئی ہے
پہلی بار جب یہ سنا تو تعجّب ہوا کہ کیا واقعی کسی چیز کے گھومنے کی بات مقصود تھی۔ لیکن یہ بات عیاں ہوتے دیر نہ لگی کہ لوگوں نے گُم ہوجانے اور گُھومنے میں کامیاب مغالطہ پیدا کرلیا ہے۔

یہ مغالطہ اِس غلط فہمی پر مبنی ہے کہ لوگ جب کسی ہجوم میں گھومنے کیلئے شرکت کرتے ہیں تو نتیجہ اکثر کسی کے گُم ہوجانے کی صورت میں نکلتا ہے۔دوسرے یہ کہ کسی چیز کے گم ہوجانے اور کسی کے گھومنے جانے میں تمیز کرنا فضول محنت کا کام ہے، خاص طور پر جب آمدنی یا شرمندگی جیسے نتائج متوقّع نہ ہوں۔

براری بولی میں گم ہوجانے کو گُم جانا اور گنوا دینے کو گُما دینا کہا جاتا ہے۔ لیکن اس سے مغالطہ پیدا نہیں ہوتا۔

آج جب کسی نے کہا کہ مجھے چائے کی طلب ہورہی ہے تو دوسرا شخص یہ بات سمجھ نہ سکا۔ آخر اسے یہ بتایا گیا کہ طلب یعنی craving

Monday, December 25, 2006

امتحانات سے فراغت

مجھے کمپیوٹر انجینئرنگ کرنے کے بعد ملازمت کرتے ہوئے چند سال گذر گئے ہیں۔ دو سال قبل خیال آیا کہ کسی اور میدان میں پیش قدمی کرنی چاہئے۔ فاصلاتی نصاب کئی ایک ہیں۔ میں نے تہیّہ کرلیا تھا کہ اردو کی سند یا پھر صحافت میں جو ہوسکے کرونگا۔ مجھے محسوس ہوا کہ صحافت کی معمولی سند بنسبت اردو کی سند کے زیادہ سود مند ہوگی۔

چونکہ ہم اپنے پیروں پر کھڑے ہیں اسلئے خود مختاری ہے، ہم نے "فاصلاتی تعلیم برائے صحافت (بذریعہ انگریزی)" میں داخلہ لے لیا۔ والد صاحب اس فیصلہ سے خوش ہوئے جس کی تین وجوہات تھیں؛
٭ ہمارے بڑے بھائی نے بھی کچھ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن توجّہ نہ دے سکے۔ اسکے برعکس ہم سے مکمّل کیے جانے کی قوی امّید تھی۔
٭ والد صاحب اردو پر انگریزی کو بے پناہ ترجیح دیتے ہیں۔
٭ ہم سائنس کے طالبِ علم سے ادب کے دائرے میں داخل ہونے جارہے تھے۔

فاصلاتی تعلیم گھر بیٹھے ہوتی ہے؛ پہلے نصابی کتابیں آئیں، پھر آزمائشی پرچے بھی موصول ہونے لگے۔ جب بھی جوابی پرچے بھیجنے کی تاریخ قریب آتی، ہمارے کام میں خلل ہوجاتا۔

آخر کار ایک دن خبر ملی کہ ٢٤ دسمبر کو امتحانات کیلئے حاضری دینی ہے؛ ہماری تو جیسے نیند حرام ہوگئی۔ ملازمت میں کام بہت بڑھ گیا تھا، سر کھجانے کی فرصت نہیں تھی۔ مزید براں آٹھ مضامین کے پرچے۔

خیر جب امتحانات سر پر آ ہی گئے تو ہم نے دو دن کی چھٹّی کی درخواست کردی۔ ٢١، ٢٢ اور ٢٣ دسمبر کو گوشہ نشینی اختیار کرلی۔ ٢٤ کو امتحانات سے فارغ ہوئے۔ خدا نے لاج رکھ لی ایسا محسوس ہوتا ہے، حقیقت تو نتائج ہی بتائیں گے۔

کل اتوار کو امتحانات سے فراغت کے بعد سے بڑا اطمینان ہے، اور آج تو خوب مٹر گشتی بھی کی۔

Wednesday, November 29, 2006

اردو تعلیمی ادارے صرف لڑکیوں کیلئے

ایک مسلم حضرت مجھ سے ملنے آئے۔ باتوں باتوں میں اردو کا ذکر چھڑا۔ کہنے لگے کہ دو سال قبل درجہ دہم میں جس لڑکی نے نمایاں کامیابی حاصل کی تھی وہ ہماری بھتیجی ہی تھی۔ مجھے یاد آیا کہ یہ لڑکی اینگلو انڈین گرلس اسکول کی طالبہ تھی اور اخبارات میں اس کی کامیابی کے کافی چرچے ہوئے تھے۔ انہوں نے اُس اسکول کے معیار ِ تعلیم کو خوب سراہا۔ پھر کہنے لگے کہ اینگلو انڈین اردو بوائیز اسکول بہت ہی غیر معیاری ہے۔
میں نے پوچھا "پھر لڑکوں کیلئے کونسا اردو مدرسہ معیاری اور قابل ِ اعتماد ہے؟" تو انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ لڑکوں کیلئے تو انگریزی مدارس ہی بہتر ہیں۔ میں نے حیرانی سے پوچھا کہ صرف لڑکیاں ہی اردو کیوں پڑھیں؟ لڑکوں کو موقع کیوں نہ ملے؟ تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرکے بتایا۔ ان کا اشارہ اسکرٹ کی طرف تھا۔ ان کی منطق میں انگریزی مدارس لڑکیوں کیلئےجو لباس منتخب کرتے ہیں وہ ہمارے لحاظ سے نازیبا ہوتا ہے۔ اسلئے بے حیائی سے بچنے کیلئے لڑکیوں کو اردو مدارس بھیجا جائے۔ میں سوچنے لگا کہ یہی مسئلہ لڑکوں کے معاملہ میں بھی درپیش آنا چاہئے۔

ہم مسلمان انگریزی مدارس کی جدید تعلیم سے مستفید ہونا تو چاہتے ہیں لیکن مندرجہ ذیل میں سے کچھ بھی کرنے کیلئے تیار نہیں:
٭ اردو مدارس میں پیشے کے تئیں ایمانداری
٭ معیاری اردو مدارس کا قیام
٭ معیاری انگریزی مدارس کا قیام
٭ اوروں کے انگریزی مدارس کو یہ باور کرانا کہ کم از کم ہماری اولادوں کو جب آپ کے یہاں پڑھنے بھیج سکتے ہیں تو آپ کو ان کے کپڑے برداشت کرنے ہونگے۔

کوئی دن تو آئیگا جب دوسرے یہ بھی سمجھ لیں گے کہ یہ لوگ اردو مدارس کی آڑ میں عورتوں کو جدید تعلیم سے محروم رکھ کر اپنی روش برقرار رکھ رہے ہیں اسلئے اردو مدارس میں بھی انگریزی مدارس کا معیار نافذ کیا جائے۔