Thursday, September 04, 2008

کھجور کی تلاش

رمضان کا پہلا روزہ تھا۔ سب کچھ تھا، لیکن کھجور نہیں۔
میں مسلم اکثریتی علاقہ میں نہیں رہتا، جہاں تمام قسم کے حلال گوشت اور کھجور جیسی چیزوں کی فراوانی ہوتی ہے۔ ان "پسماندہ" علاقوں میں قلّت صرف راستوں کی ہوتی ہے۔ نجانے کیوں مسلمان علاقوں میں یہ رجحان ہر جگہ پایا جاتا ہے کہ ہم اپنی متعیّن جگہ سے پانچ فٹ آگے مکان بڑھالیتے ہیں۔
خیر، میں جس علاقہ میں رہتا ہوں وہاں کی صغیرہ و کبیرہ دکانوں کے میں نے چکّر لگائے لیکن کہیں کھجور نہ ملی۔ یہاں جو موَل اور بیکریاں ہیں (خواہ وہ مسلمانوں کی ہوں) تہواروں کا بطورِ خاص خیال رکھتے ہیں؛ دیوالی ہو یا کرسمس۔
لیکن کھجور اور دودھ جن کا استعمال رمضان میں بڑھ جاتا ہے، ان دونوں چیزوں کی قلّت سی ہوگئی ہے۔ وجہ یہ تھی کہ دوکانداروں کو رمضان شروع ہونے کا نہ تو علم ہے نہ ہی کاروباری اہمّیت۔ علم کیوں کر ہو؛ نہ تو رمضان کے ڈھول تاشے ہوتے ہیں اور نہ ہی کوئی دھوم۔
وہ دن ہوا ہوئے جب سحری ختم ہونے کا اعلان کیا جاتا تھا۔ اب تو صبح میں شور کرنے پر پابندی کی وجہ سے اذان کب ہوتی ہے معلوم نہیں ہوتا۔ پھر جب لوگ اپنے گھروں سے مسجدوں کیلئے نکلتے ہیں تو راستے میں ملاقات صرف کتّوں سے ہوتی ہے۔ جب سے کتّوں کے مارنے پر پابندی عائد ہوئی ہے، وہ بڑے غیر ذمّہ دار ہوگئے ہیں۔ کیا ان سے کوئی توقّع کی جاسکتی ہے کہ وہ دوکانداروں کو صبح کے حال سے مطلّع کریں گے! خیر چھوڑیے ان کتّوں کو۔
لیکن جب میں اس علاقہ کی مسجد میں جاتا ہوں تو کافی لوگ ہوتے ہیں، جس سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ اس علاقہ میں کتنے "چھپے رستم" (مسلمان) رہتے ہیں۔ اس علاقہ میں کاروبار کرنے والوں کی منافع سے اس بے رُخی پر مجھے غصّہ بھی آیا اور افسوس بھی ہوا۔
خدا خدا کرکے(اِسے شرک نہ سمجھیں، خدا سے میری مراد اللّہ ہے)، ایک راجستھانی حلوائی کے یہاں کھجور ملی؛ آدھا کلو کی جدید ہوا بَند پُڑیا، جو وہ ستّر روپئے "ایم-آر-پی" میں بیچنے پر بضد تھا۔ میں گھر آنے تک یہی سوچتا رہا کہ آئندہ سال کسی ایماندار ضرورت مند کی مالی اعانت کرکے اسے ایک "رمضان المبارک" دوکان لگانے پر راضی کرونگا۔ خیر، دوسرے روز میں نے اس کھجوری "استحصال" سے بچنے اور "باایمان" ہوا میں سانس لینے کیلئے مسلم بازار کا رُخ کیا اور ٣٠٠ گرام کھجور کیلئے ساٹھ روپئے ادا کرنے کے بعد استحصال کی ایمانی حالت کا مجھے علم ہوا۔

7 Comments:

At 12:56 AM , Blogger Hyderabadi said...

السلام علیکم۔ رمضان کی نیک ساعتیں مبارک ہوں۔
ہاہاہا اچھا تجزیہ کیا ہے۔ وہ کون سا مقام ہے بھائی جہاں ایسی قلت پائی جا رہی ہے۔ ایک ادھر ہم ہیں سعودی عرب میں جہاں مختلف قسم کی کھجوریں دیکھ دیکھ کر اور کھا کھا کر ناطقہ سربہ گریباں ہے۔
یادش بخیر ۔۔۔ اچھی طرح یاد ہے کہ کچھ سال پہلے مسجد نبوی میں دو تین بار افطار کرنے کا اتفاق ہوا تھا۔ روزہ دار بچارے کو افطار کرانے کے لئے مقامی لوگ جو اس کی چھینا جھپٹی کرتے ہیں ، دیکھنے قابل ہوتا ہے منظر۔ بہرحال جو سعودی صاحب مجھے پکڑ لے گئے تھے اپنے دسترخوان پر وہاں 10 انواع اقسام کی کھجوریں دیکھ کر منہ کھلا رہ گیا تھا۔
اللہ کی پناہ۔ بیس پچیس کھجوریں تو کھلا ہی دیں مہمان نے مہمان نوازی میں۔ نتیجہ ؟؟ بھائی صاحب ، نتیجہ کو چھوڑئے۔ اپنے ہاں کے اردو اخبار و رسائل میں قوت باہ کے جو اشتہارات شائع ہوتے ہیں ، وہ تمام بند ہو جائیں گے اگر مدینہ کی وہ مختلف انواع اقسام کی کھجوریں ہندوستانی بازاروں میں پہنچ جائیں۔
کیا سمجھے ؟‫!

 
At 4:06 AM , Blogger urdudaaN said...

آپ کو ماہِ رمضان اپنی تمام برکات کے ساتھ مبارک ہو۔ آپ کھجوری اعتبار سے زیادہ خوش نصیب ہیں۔
بیس سال پہلے تو محدود اقسام کی کھجوریں ملتی تھیں، لیکن اب تو بہترین کھجوریں دستیاب ہیں۔
جس قلّت کا میں نے ذکر کیا ہے وہ کھجور کی نہیں بلکہ بیچنے والوں کی ہے۔
نتیجہ سمجھ میں آگیا۔
:)

 
At 7:29 AM , Anonymous Anonymous said...

جناب،‏
دراصل کھجور دستاب ہیں اور وہ بھی غیر مسیم "بگ بازار" میں۔ آپ کو یہ علم ہوکر افسوس ہوگا کہ وہ ایرانی کھجور اب بھارت میں درآمد نہیں ہوتی جو دس سال پہلے عام تھی۔ خیر ممکن ہے آپ کی بجلی کیلئے یہ قیمت پیشگی ادا کردی گئی ہو۔ جہاں تک "ایمان داروں" کس استحصال کی بات ہے، ان کیلئے بھی ہر گاہک "گاندھی" کی طرح "رزاق" ہے اور ان کو تعلیم دینے کیلئے ہمیں ہی آگے آنا پڑیگا۔ ویسے آپ ایم آر پی اڑتالیس روپئے میں چار سو گرام، بغیر بیج "گٹھلی" کی "لائن" چھاپ بیالیس روپئے میں خرید سکتے ہیں اور ہم یہ یقین دلابے ہیں کہ اس مارکہ یا کاروبار سے ہمارا دور دور کا تعلق نہیں ماسوائے اسکے کہ ہم یہ کھجور افطار کیلئے استعمال کرتے ہیں۔

 
At 10:07 PM , Anonymous ڈفر said...

یہاں پاکستان میں ہر طرح کی کھجور دستیاب ہے۔ لیکن بیچنے والے رمضان میں قصائی بن جاتے ہیں۔ انکا بھی کیا قصور؟ گوشت خریدنے والے بھی تو کم ہوتے جا رہے ہیں

 
At 9:05 PM , Anonymous Fozia Altaf said...

Ye he farak hai aik Islamic country main aur non islamic country main.
App kisi Islamic country main ramzan ke roze rakho, aap ko bohat different feel ho ga.
Ramzan main Streets suhuh he sa Allah ke Noor se munawar ho jati hain.

Iss waqat main apne aap k "Lucky" feel kar rahi hoon, ke main aik Islamic Country main rehti hoon, jaha per ham Azan sunte hain, aur halal cheeze asani se khareed sakte hain.

 
At 10:47 AM , Anonymous Anonymous said...

اسلام و علیکم

 
At 10:50 AM , Anonymous Anonymous said...

اسلام علیکم اپ کا کیا حال ہے ؟ میں تو بلکل خیریت سے ہوں

 

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home