Monday, November 13, 2006

سلیقہ

قمرالزّماں بھائی کی جانب سے اردو والوں پر یہ شعر بصورت ِ پیغام ِ مختصر (ایس ایم ایس) موصول ہوا۔


woh urdu ka musaafir hai yahi pæhchaan hai us ki
jidhar se bhi guzarta hai saleeqah chhoR jaata hai



انہوں نے رومن خط میں یہ شعر کچھ اسطرح لکھا تھا؛

Wo urdu ka musafire hai yahe pahchan hai use ki
jidhare se bhi guzerta hai salika chode jata hai
وو اردو کا مسافرے ہے یہے پہچان ہے اُسے کی
جدھرے سے بھی گزیرتا ہے سلیکا چوڈے جاتا ہے


خیر... اِس شعر کیلئے میں ان کا شکر گذار ہوں کہ انہوں نے اردو میں میری دلچسپی کا خیال تو رکّھا۔