Monday, January 09, 2006

عملی تہذیب - مغرب کا خاصّہ

میں علّامہ اقبال کو بہترین مُفکّر مانتا ھوں۔ لیکن کبھی کبھار مجھے اُن پر بہت غصّہ آنے لگتا ھے اور ان کی مشرق پرستی مجھے بہت چُبھتی ھے۔

اب ھمارے دفتر کو ھی لے لیجئے؛
١- ھر مکعب دفتر (کِیُوب) میں آئی-پی فون لگے ھیں، جن میں آواز ِ بلند (اِسپیکر فون) کی سہولت بھی ھے۔
اب جناب، میرے ھم پلّہ اپنے پڑوس والوں سے بھی بات کرتے وقت اس سہولت کا بے جا استعمال کرتے ھیں۔ نتیجتاً نہ صرف دو آوازوں کا شور ھوتا ھے، بلکہ صدائے باز گشت (گونج) بھی ظہور پزیر ھوتی ھے۔
٢- دُور کسی مکعب میں کوئی بآواز ِ بلند پھل کھا رہا ھے، جیسے "موگلی" جنگل میں لوٹ آیا ھو۔
٣- کسی کیوب میں چینی کی رکابی پر دھاتی چمچے سے نقارہ بجایا جارہا ھے، جیسے کھانے کا جشن ھو۔
٤- چند مکعب والے کسی ایک مکعب میں جمع ھوکر بآواز ِ بلند محو ِ گفتگو ھیں، جبکہ اِسی مقصد کیلئے مخصوص کمرہ (کانفرنس رُوم) خالی پڑا ھے۔
کہیں کسی کانفرنس روم میں میٹنگ چل رہی ھے لیکن دروازہ کھلا ھے، جبکہ اے-سی ھر گوشہ، یہاں تک کہ طہارت خانوں میں بھی، خوشگواری پھیلائے ھوئے ھے۔
٥- ایک ٹوکری میں تازہ "اِسٹَرا بیریاں" رکھی ھوئی ھیں، میرے ھم پلّہ صاحب ان میں سے بیشتر اٹھا کر چل دیتے ھیں، جیسے اس سہولت سے صرف انکا مستفید ھونا مقصود تھا۔

کیا یہ حالیہ مشرقی تہذیب نہیں ھے؟

ایسے اخلاق یورپ، امریکہ و جاپان میں دیکھنے نہیں ملے۔

4 Comments:

At 7:17 AM , Blogger شعیب صفدر said...

عید مبارک

 
At 11:43 AM , Blogger E Mullah الیکٹرونک مُلا said...

عید مبارک

 
At 6:51 PM , Blogger میرا پاکستان said...

ہماري طرف سے آپ کو عيد مبارک ہو

 
At 5:32 AM , Anonymous SHUAIB said...

اردو کے ہر دلعزیز استاد کو عید مبارک

 

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home