Saturday, January 14, 2006

بشکریہ انقلاب


روزنامہ انقلاب کے نام اس خط میں اپنی ہم وطن بہن کا اردو کے تئیں یہ جذبہ دیکھ کر دلی خوشی ھوئی۔

مٹھاس بھری زبان اُردو
سُنتے آئے ہیں کہ -اپنے بچوں کو مادری زبان کی تعلیم دی جائے- اردو ہماری ہندوستانی زبان ہے جسے غیر ملکوں میں بھی بے پناہ مقبولیت حاصل ہے۔ لیکن ماہرین ِ تعلیم کے مذکورہ بالا مشورے کے برعکس جتنا نقصان اِس زبان کو اپنوں سے پہنچا ھے اس کی مثال شاید دنیا میں نہ مِلے۔

ستم ظریفی یہ ھے کہ بہت سے شاعر، ادیب اور دانشور بھی اپنے بچوں کو انگلش اسکول میں تعلیم دلوارہے ہیں۔ اُردو کی روزی روٹی کھاکر اردو زبان سے یہ چشم پوشی نہیں تو اور کیا ھے! ضرورت ھے کہ ہم اپنے بچوں کو مادری زبان میں تعلیم دلوائیں اپنی دکانوں اور کاروبار کے بورڈ اردو میں لکھوائیں، اردو لکھیں، اردو پڑھیں اور اردو بولیں تاکہ ہمارے معاشرہ میں اردو کی مٹھاس باقی رہے۔

اس شیریں زبان کو آپ کے بھرپور تعاون اور عزم ِ مصمّم کی ضرورت ھے۔ اس لئے اس کے فروغ میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیں۔

سُمیّہ محمود شیخ - طالبہ، جامعہ اسلامیہ کُوسہ، مُمبرا-بمبئی

3 Comments:

At 10:13 AM , Blogger indscribe said...

Buzurg sha'er Mahzar Lucknawi jinki inteqaal hua kuchh arsa qabl unhone urdu-daan hone ki badi zabardast sharaaet rakhee theen.....1. begumati zabaan mein loriyan sunee hon 2. Markaz-e-Zubaan mein aankh kholi ho 3. Faarsi par dast-ras aur Urdu ki shud bud ho....waghaira waghaira.....is daur mein to hindostan mein urdu-go hi na rahe....Khair aap jaise urdu ke deewanon ki zaat se qawi ummeed hai....Salaam!

 
At 12:38 PM , Anonymous saad said...

masha Allah....urdu achi hai aap ki....main khud ahlay zuban honay k bewajuud urdu ko apnay lehjay main woh rutbaa naa depaaya jo mujhey kerna chaahiye thaa...aap ki tehreer perh k ab kuch aisa mehsuus hota hai k madad rehaygi...

beher haal mera naam saad hai aur main Rwp. Pakistan se huun...aap k tabsaray mere liye yakeenan takweeat ka baais benaingay

 
At 1:45 AM , Blogger urdudaaN said...

صاحبان،
سب سے پہلے تو میں آپکو خوش آمدید کہنا چاھوں گا۔
مجھ سے آپ نے جو امیدیں لگائی ھیں، اُس ذرّہ نوازی کیلئے ممنون ھوں۔ میں اپنی دیوانگی سے آپ کی امّیدوں پر کھرا اترنے کی کوشش کرونگا :)
آتے رہیئے گا، آپ کے تلخ و شیریں تبصرات کا انتظار رہیگا۔

جناب مُسلم ھموطن صاحب،
یہ دراصل ایک اردوخواں یا اردو پرست ھندوستانی کا بلاگ ھے (اردوداں نام میں کیا رکھّا ھے)، لہٰذا حضرت کی دہرائی گئی شرائط مجھ پر عائد نہیں ھوتیں :)
بُرا نہ مانیں، لیکن ھندوستان میں اردو بولنے والوں کی کمی بالکل نہیں ھے، کمی ھے تو صرف اردو ماننے والوں کی۔

 

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home