Friday, July 28, 2006

بلا عنوان

اوّل تو آج کا دن بہت عجیب تھا، انتہائی عجیب۔ شام جلد گھر واپسی کا ارادہ تھا لیکن کمپنی کی بس نے چَھٹی کا دودھ یاد دلادیا۔ لگتا تھا تاقیامت انتظار کروائے گی۔ بہت دیر ہوچکی تھی، اسلئے ایک خاصی ہوٹل کا رخ کیا۔ اس سے پوچھا "حلال"(کِیا گیا گوشت) ملے گا؟ وہ حلال تک سمجھ نہیں سکا۔ کیوں سمجھے، ہماری اوقات ہی کیا ھے! چلا آیا منھ اٹھاکر حلال کھانے!!
یہی حال خود "حلال خوروں" کا بھی ہے۔ خاص طور پر لکھیں گے "نو بیف" (مجھے اعتراض نہیں)۔ میں نے پوچھا "حلال" بھی کیوں نہیں لکھتے، کہا جاتا ہے "سِکھ بھائی" نہیں کھاتے۔
آج ہوٹل کی میز پر میں یہی کوشش کرتا رہا کہ کیسے حلال اور حرام کی تمیز پر قابو پاؤں اور آزاد ہوجاؤں جو ایک بوجھ بن چکا ہے۔

میں ایک عرصہ تک بلاگ سے غائب رہا، بالکل بے خبر۔ آج سیارہ کھولا تو انکشاف ہوا کہ سیارہ کو کسطرح پراگندہ کیا گیا ہے۔ میرے لئے معاملہ کی تہہ تک جانا فی الوقت ممکن نہیں۔ صرف اتنا کہوں گا کہ انصاف کا تقاضہ مندرجہ ذیل طریقۂ کار پورا کر نہیں سکتا؛

مہذب اور با اثر لوگوں کا طریقہ:
میرا ری ڈِف مِیل پر ایک کھاتہ تھا اور وہی کھاتہ میں نے ایک فِری اِسپیچ (زباں درازی؟) فورَم (آؤٹ لُک انڈیا ڈَوٹ کَوم) پر استعمال کیا تھا۔ کسی خبطی نے کئی بار ایسے نازیبا کلمات ایک عرصہ تک استعمال کیے کہ میں نے بے قابو ہوکر اسی شدّت سے جواب دیا، لیکن علاوہ لوگوں سے پیشگی معذرت بھی چاہ لی۔
میرا جواب دینا تھا اور آزادئ اظہار ِ خیال نے یک لخت دم توڑ دیا، آزادی کی روح فنا ہوگئ اور بالائے طاق رکھی تہذیب فعال ہوگئی۔ میں فورم سے نکال دیا گیا (جو میں چاہتا ہی تھا)۔ یہی نہیں میرا ری ڈف کھاتہ تک بند کروادیا گیا۔
میں ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایک فورم والے کسی اور ای میل سروس سے ایسا کام کیسے کرواسکتے ہیں۔ کیا جانے مانے اخبارات کے فورم چند قسم کے لوگوں کو خاص طور پر پھانسنے کیلئے بنائے جاتے ہیں؟
آج بھی وہ اور اس جیسے کم ظرف وہاں زہر اگلتے پائے جاتے ہیں۔ فسطائیت کا دور دورہ ہے۔ صحیح اور غلط صرف نظریات بنادئے گئے ہیں۔

جیسے آج "حلال" کا لحاظ ترک کرنے کا ارادہ ہوا تھا، کچھ وہی جذبات اردو بلاگ بھی ترک کرنے پر آمادہ کررہے ہیں۔

آخر میں یہ کہ وہ مسلمان جو دہراتے رہتے ہیں کہ "چند کی حرکت کی وجہ سے سبھی کو بدنام" نہیں کیا جانا چاہئے، یہ بھی سمجھ لیں کہ اِس خیال کا مذاہب کے ساتھ ہی قوموں(ہندوستانی، پاکستانی) پر بھی اطلاق کیا جائے۔

7 Comments:

At 9:12 PM , Anonymous بدتمیز said...

سلام
اردو بلاگ بند کرنے کا مت سوچئے۔ روشن خیالوں اور انتہا پسندوں میں چند ایک ہی تو اعتدال پسند ہیں۔ وہ بھی نہ رہے تو باقی کیا بچے گا۔

 
At 3:37 AM , Anonymous شعیب صفدر said...

اردو بلاگ مت چھوڑنا بھائی!!! نہ حلال و حرام کا فرق ختم ہونا چاہئے!!!
صیح اور غلط کبھی ایک نہیں ہو سکتے!!!
“چند کی حرکت کی وجہ سے سبھی کو بدنام“ کرنے والی بات ہر جگہ اطلاق پذیر ہے بھائی کیوں پریشان ہوتے ہو

 
At 8:22 AM , Anonymous جہانزیب said...

اسلام و علیکم، جناب چند ہی تو بلاگ ہیں جن پر عصبیت کا اثر نہیں ہے اور آپ ایسے بلاگ کو ختم کرنا چاہتے ہیں، نہ ہی آپ حلال ختم کریں اور نہ ہی بلاگ

 
At 9:43 AM , Anonymous بدتمیزیاں said...

جناب اردو دان صاحب۔

بدتمیزی پہلے شیعب نے کی تھی۔ اور خدا پر بکواسیات لکھی تھین۔ ہندوستان پاکستان کو وہی بیچ میں لایا تھا آپ ہماری کوئی بھی تحریر دیکھ لیں ایسی کوئی بات نہیں کی گئی لیکن وہ ہمیں ہندوستانی بن کر غلط باتیں کہے گا تو جواب بھی پاکستانیوں والا ہی ملے گا۔ ہندوستانی مسلمان ہمارے بھائی ہیں ہم کوئی فرق نہیں سمجھتے لیکن شعیب جیسے گھٹیا لوگ نہیں۔ اس کے علاوہ اس نے دھمکی ہندوستانی بن کر دی تھی مسلمان بن کر نہیں۔ امید ہے آپ سمجھ جائین گے۔

 
At 10:06 AM , Blogger عتیق الرحمان said...

السلام علیکم: ہندوستان اور پا کستان کے حوالے میں نے جو کچھ کہا تھا وہ شعیب کی میل کا ردِعمل تھا لیکن میری وجہ سے آپ کی جو دل شکنی ہوئی اس کے لیے میں معافی کا خواستگار ہوں۔بس میری یہی غلطی ہے کہ میں جو کچھ محسوس کیا وہ لکھ دیا، بخدا وہ سب کچھ لکھتے ہوئے بھی میرے پیشِ نظر یہ خیال تھا کہ مجھے ایسی کوئی بات نہیں لکھنی جس سے کسی اور کا دل دکھے۔ میری یہ تحری آپ کی توجہ چاہتی ہے۔

 
At 5:37 PM , Blogger میرا پاکستان said...

آپ کي موجودگي اردو زبان کي ترويج کيلۓ اہم ہے اسلۓ اپنے بلاگ کو بند کرنے کا خيال دل ميں مت لايۓ اور بناں کسي لالچ کے اردو کي خدمت کرتے رہيۓ۔ آپ ہي کے دم سے ہم اپني اردو کي غلطياں درست کرتے رہتے ہيں۔ اميد ہے آپ ہماري درخواست کو قبول فرمائيں گے اور بلاگنگ جاري رکھيں گے۔

 
At 7:59 PM , Blogger iabhopal said...

ميں نے پہلے ہی دن آپ کی يہ تحرير پڑھی تو کچھ لکھنے لگا تھا کہ مُجھے فوراً بُلا ليا گيا ۔

گستاخی معاف کنارہ کشی بزدلی کی نشانی ہے ۔ کسی نے کہا ہے

نشہ پِلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے
مزا تو تب ہے گرتے کو تھام لے ساقی

 

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home